16اکتوبر کے ضمنی انتخابات

گردو پیش

محمد عارف قریشی

لیجئے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی بھی اپنی بات سے پھر گئے۔ اپنے قائد عمران خان کی پیروی میں انہوں نے بھی یو ٹرن لے لیا۔ چند دن پہلے اپنے ایک ٹی وی انٹرویو میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ سابق وزیر اعظم کے بیرونی سازش کے بیانیے سے Convincedنہیں تھے۔ اسی لیے انہوں نے اسے تحقیقات کیلئے چیف جسٹس کو بھیجا۔ اس سے اگلے روز ایک دوسرے چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے فرمایا کہ وہ اس بیانیے سے Convincedتھے تو انہوں نے اسے تحقیقات کیلئے چیف جسٹس کو بھجوایا۔ اب اس کا کیا مطلب لیا جائے؟ جب وہ کہتے ہیں کہ ’’ان کے بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیاگیا‘‘ ویسے صدر محترم کو اس وضاحت کی ضرورت کیوں پیش آئی جب کہ انہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ اس وقت عمران خان ان کا کچھ بگاڑ سکتے ہیں اور نہ موجودہ حکومت انہیں ان کے عہدے سے علیحدہ کر سکتی ہے۔ کیونکہ ان دونوں کے پاس اس کے لیے نمبر پورے نہیں۔ ہمارے خیال میں اس معاملے میں ان کی وفاداری بشرط ِ استواری کا بڑا دخل ہے وہ اپنی نیچر کی وجہ سے پی ٹی آئی خصوصاً عمران خان کے ساتھ اپنی طویل وابستگی کو بیک جبنشِ قلم ختم نہیں کرنا چاہتے۔ وہ اپنے مقام ومرتبے کے زعم میں جوش میں آکر جو کچھ کہہ گئے بعد میں انہیں احساس ہوا کہ یہ تو غلط ہو گیا۔ ہو سکتا ہے اس دوران سابق وزیر اعظم نے بھی ان سے ’’گلہ‘‘ کیا ہو۔ اور جو لوگ خان صاحب کو جانتے ہیں وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ ان کا گلے شکوے کا انداز کیسا ہوتا ہے؟ وہ فوج ،عدلیہ ،الیکشن کمیشن، نیب اور ایف آئی اے کو نہیں بخشتے تو جناب عارف علوی کی ان کے سامنے کیا حیثیت ہے۔ بہرحال صدر صاحب نے تو اپنی صفائی پیش کر دی اب وہ جانیں اور عمران خان۔

ڈاکٹر عارف علوی نے اپنی مندرجہ بالا وضاحت کے دوران بات کو مزید واضح کرنے کیلئے محسن نقوی کا یہ شعر بھی پڑھا کہ
؎ جو بات معتبرتھی وہ سر سے گزر گئی جو حرف سرسری تھا وہ دل میں اتر گیا
اس کے جواب میں ہم اپنی طرف سے کچھ نہیں کہتے بس ظفر اقبال کا ایک شعر ان کی نذر کیے دیتے ہیں۔
؎ جھوٹ بولا ہے ظفر ؔتو اس پہ قائم بھی رہو آدمی کو صاحبِ کردار ہونا چاہیے

اور اب آئیے 16اکتوبر کومنعقد ہونے والے قومی اور پنجاب اسمبلی کے ضمنی انتخابات کی طرف جن میں پی ڈی ایم خصوصاً ن لیگ کو ایک مرتبہ پھر شکستِ فاش کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ہم نے اپنے ایک سابقہ کالم میں لکھا تھا کہ موجودہ حکومت کے اقتدار سنبھالنے کی سب سے بھاری قیمت صرف ن لیگ کو ادا کرنا پڑے گی۔ یہ بات بتدریج سچ ثابت ہورہی ہے۔ اس سے قبل پنجاب اسمبلی کے ضمنی الیکشن میں اسے زبردست ہزیمت اٹھانا پڑی اور حالیہ معرکے میں بھی اسے صرف ایک صوبائی نشست ملی جبکہ پیپلز پارٹی نے حکومت کا حصہ ہونے کے باوجود قومی اسمبلی کی دو نشستیں جیت لیں۔منافع میں کون رہا اور خسارہ کسے ہوا؟ ن لیگ کے قائدین کو اس پر ٹھنڈے دل سے غور کرنا چاہیے۔ گیارہ جماعتی اتحاد کی مجبوریاں اپنی جگہ اس کے باوجود اسے اپنی ساری توجہ عوام کو ریلیف فراہم کرنے پر مرکوز کرنی چاہیے۔ مہنگائی ،بے روزگاری اور بیڈ گورنس کا تدارک نہ ہوا تو عمران خان کا بیرونی سازش کا چورن جس طرح دھڑا دھڑ بک رہا ہے 2023ء کے انتخابات میں ن لیگ کا حشر اس سے بھی بُرا ہوگا۔

جہاں تک پی ٹی آئی کا تعلق ہے کچھ تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ اس الیکشن کی ساری نشستیں پی ٹی آئی کے ارکان نے چھوڑی تھیں جن میں سے دو پر وہ ہار گئی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اس کی مقبولیت میں کمی آئی ہے۔ عوام نے عمران خان کے بیانیے کو وہ پذیرائی نہیں دی جس کی توقع کی جارہی تھی۔ یہ تجزّیہ اپنی جگہ لیکن کوئی خان صاحب سے یہ تو پوچھے کہ جب آپ نے اسمبلی واپس نہیں جانا تو پھر الیکشن لڑنے کا یہ کشٹ کیوں اٹھا رہے ہیں۔ دوسری بات اس الیکشن میں انہوں نے چھ نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے جو ساری کی ساری انہیں چھوڑنا پڑیں گی کیونکہ وہ پہلے سے ہی میانوالی کی نشست پر ممبر اسمبلی ہیں۔ (ان کا استعفیٰ ابھی منظور نہیں ہوا) ویسے ہماری سمجھ میں یہ بات نہیں آتی کہ اس کے باوجود الیکشن کمیشن نے انہیں نیا الیکشن لڑنے کی اجازت کیسے دے دی؟ بہرحال سابق وزیر اعظم کی ان نشستوں سے دستبرداری کے بعد یہاں پھر الیکشن ہوگا تو الیکشن کے ان اضافی اخراجات کی ذمہ داری کس پر ہوگی؟ خصوصاً ایسے ملک میں جس کی حکومت پہلے ہی معیشت کے بوجھ تلے دبی ہے۔ اہلِ فکر و نظر کو اس پر سوچنا چاہیے۔