یو اے ای میں بارش برسانے کے لیے نئے سائنسی طریقہ کار پر کام کیا جانے لگا

دبئی: متحدہ عرب امارات (یو اے ای) میں سارا سال موسم کافی گرم رہتا ہے اور بارشیں کم ہوتی ہیں، یہی وجہ ہے کہ وہاں اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے سائنس کی مدد لی جارہی ہے۔اس مقصد کے لیے وہاں ایک نئے سائنسی طریقہ کار کو آزمایا جارہا ہے۔یو اے ای کے محکمہ موسمیات کے عہدیدار عبداللہ الحمدی کے مطابق کلاؤڈ سیڈنگ کے لیے برساتی بادلوں کی ضرورت ہوتی ہے جو کہ ہمیشہ موجود نہیں ہوتے۔یو اے ای میں ہر سال اوسطاً 100 ملی میٹر سے بھی کم بارش ہوتی ہے اور اسی وجہ سے زیادہ بارش کے لیے کلاؤڈ سیڈنگ کے ایک زیادہ نئے طریقہ کار پر کام کیا جارہا ہے۔بادلوں میں برقی چارجز کا استعمال کرتے ہوئے مصنوعی بارش برسانے کے عمل کو کلاؤڈ سیڈنگ کہتے ہیں۔

موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات، بڑھتی آبادی اور دیگر وجوہات کے باعث متحدہ عرب امارات میں پانی کی طلب میں اضافہ ہوا ہے جس کو پورا کرنے کے لیے یو اے ای کو سمندری پانی کو مہنگے پلانٹس سے پینے کے قابل بنانا پڑتا ہے۔حکام کا ماننا ہے کہ سائنس سے اس مسئلے پر قابو پانے میں مدد مل سکتی ہے اور اس مقصد کے لیے سائنسدانوں کی جانب سے پانی کو کھینچنے والے سالٹ فلیئرز کو استعمال کیا گیا ہے۔سالٹ فلیئر سالٹ نانو پارٹیکلز خارج کرتے ہیں جو ایک نئی ٹیکنالوجی ہے جس سے بادل متحرک ہوتے ہیں اور وہ عمل تیز ہوجاتا ہے جو بارش برسانے میں مدد فراہم کرتا ہے۔