گوجرخان گلیانہ موڑ کا خونیں یوٹرن، 2دوستوں کی جان بھی لے گیا

عامر وزیر ملک

تیرہ فروری …… اتوار کی صبح اہل گوجر خان کے لئے غم اور سوگواری کی کرنوں سے ساتھ طلوع ہوئی، رات گئے شہری حدود کے خونیں یو ٹرن گلیانہ موڑ پر ٹریفک کے المناک حادثہ میں دو جگری دوستوں کی موقع پر ہلاکت کی خبر نے کہرام مچادیا۔ یہ روح شکن خبر جس جس کو ملی انہوں نے اظہار افسوس کرتے ہوئے مغفرت اور درجات کی بلندی کی دعا کی۔ حسن شیراز کیانی کا اس روز یوم پیدائش تھا۔کون جانتا تھا کہ اس ہنس مکھ نوجوان کی یوم پیدائش اور وفات ایک ہی تاریخ کو ہوجائے گی۔ شہری حدود میں بڑکی یو ٹرن۔ٹی ٹی سی یو ٹرن اور گلیانہ موڑ جی ٹی روڈ یو ٹرن۔یہ تینوں خونیں یو ٹرن کے نام سے معروف ہیں۔ان جہگوں پر آئے روز حادثات میں متعدد افراد جاں بحق درجنوں زخمی اور بڑی تعداد میں گاڑیوں کی ٹوٹ پھوٹ سے لاکھوں روپے کا نقصان ہو چکا ہے۔یہا ں سے منتخب ہونے والے ارکان اسمبلی نے بھی اس سنگین مسلہ کے حل کے لیے کوئی کردار ادا نہیں کیا۔شہر میں بڑھتے ہوئے ٹریفک دباؤ کو کم کرنے کے لئے بائی پاس،انڈر پاس،گول چوک فلائی اوور نہ بنایا گیا ن لیگ کے سابق رکن صوبائی اسمبلی چوہدری افتخار احمد وارثی نے فلائی اوور کی تعمیر کے لئے عملی قدم اٹھایا اور تقریباً منظوری بھی لے لی لیکن انکی اپنی پارٹی اور کچھ خفیہ نے اس منصوبے کی مخالفت کی۔افتخار وارثی کی اپنی پارٹی کی مخالفت کی بڑی وجہ یہ تھی فلائی اوور کی تعمیر سے میری بلے بلے ہو جاتی اور مجھے سیاسی فائدہ ہوتا۔اس طرح یہ بیل منڈے نہ چڑھی۔اب بھی ان ٹرن پر کوئی حادثہ ہوتا ہے تو تنظمیں بیانات داغ کر (حاضری لگوا کر)خاموش ہو جاتی ہیں۔نیشنل ہائی وے اتھارٹی کی اعلیٰ احکام شہری تنظیموں کو اس حوالے سے میٹنگ کر کے صرف وعدے کرتے ہیں۔

آئی کیٹس،سپیڈ بریکر وغیرہ لگانے کے لالی پاپ دے کر چلے جاتے ہیں۔ حالیہ حادثہ میں جاں بحق ہونے والے دونوں نوجوان گہرے دوست تھے صرافہ بازار میں کاروبار کرتے تھے،حادثہ کی رات انکا پروگرام گوشت پکانے کا بن گیا جس بارے انہوں نے اپنے دوسرے دوستوں کو بتایا کہ وہ گلیانہ روڈ سے گوشت لے کر آتے ہیں۔ دعوت کریں گے لیکن دعوت نہیں موت کا بلاوا تھا گلیانہ یو ٹرن پر تیز رفتار کار نے موٹر سائیکل سوار حسن شیراز اور حیدر عباس کو زور دار ٹکر ماری جس سے یہ دونوں سڑک پر گرے تو سامنے آنے والے ٹرک کی زد میں آ گئے اور یوں دوستوں نے سفر آخرت میں بھی ایک دوسرے کا ہاتھ نہ چھوڑا اور لواحقین اپنے دوستوں یاروں کو روتے بلکتے چھوڑ کر دار فانی سے کوچ کرگئے۔ حادثہ کی اطلاع ملنے پر ریسکیو 1122 کا عملہ اور مقامی پولیس فوری طور پر پہنچی ۔حسن شیراز کیانی ممبر پوٹھوار پر یس کلب اور جنٹری کالج کے لیکچرار میر سلطان سارنگ پاشا کے بھائی تھے۔ حسن شیراز کا ایک کمسن بیٹا ہے اس المناک حادثہ پر گوجرخان کا صرافہ بازار مکمل طور پر بند رہا دونوں دوستوں کی نماز جنازہ میں ایسا محسوس ہوتا تھا کہ سارا شہر امڈ آیا ہو۔ یہ تحصیل کی تاریخ میں بڑے جنازوں میں ایک تھا۔اس موقع پر ہر آنکھ اشک بار تھی پوٹھوہار پریس کلب کے ممبر میر سلطان سارنگ پاشا کیانی، شیرباز کیانی، شہریار کیانی کے بھائی حسن شیراز کیانی اور استاد عباس صراف کے بیٹے قیصر اور تیمور صراف کا بھائی حیدر عباس صراف کی نماز جنازہ ادا کردی گئی جنازہ میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔

جنازے پیر سید سعیداحمد شاہ گیلانی نے پڑھایا نماز جنازہ میں ایم پی اے چوہدری جاوید کوثر سابق ایم پی اے چوہدری ریاض،سابق ایم پی اے راجہ طارق کیانی، پیپلز پارٹی کے رہنما راجہ خرم پرویز اشرف مسلم لیگ ن کے چیئرمین بلدیہ حاجی شاہد صراف کے فرزند اور دی مال آف گوجرخان کے سی ای او حاجی جمشید علی صراف، مسلم لیگ یوتھ ونگ ن راولپنڈی ڈویڑن کے سابق صدر سید ندیم عباس بخاری سابق سٹی ناظم راجہ عبدالغفور کیانی مرکزی انجمن تاجراں گوجرخان کے صدر راجہ محمد جواد سرپرست اعلی حاجی خواجہ اعجاز گوجرخان کی ممتاز کاروباری شخصیت ثاقب علی بیگ ایڈووکیٹ،کھوکھا یونین کے صدر مرزا تمور وارثی مرکزی انجمن تاجراں گوجرخان کے رہنما ملک محبوب حسین حاجی شاہد قریشی حاجی عبدالغفار قریشی سماجی شخصیت مرزابابر محمود بابری راجہ طیب خواجہ خالد شیشے والے چوہدری غلام جیلانی زبیرخان رضوان قریشی جانی، سابق کونسلر راجہ سہیل کیانی ایڈووکیٹ سابق صدر بار ایسوسی ایشن گوجرخان راجہ شاید عباس کیانی ایڈووکیٹ سابق وائس چیئرمین بلدیہ خواجہ نعیم قیوم ممتازسیاسی سماجی اورمزہبی رہنماراجہ عبدالصبور کیانی سابق ناظم غفور کیانی مرزا عرفان شیخ محبوب الرحمن سابقہ کونسلر حاجی شیخ محمد افضل سابق کونسلر چوہدری ندیم، رؤف کیانی، طلعت سیال،خواجہ ظہیر، مرزا مبشر مرزا ظفر جہانگیر کیانی منیر ملہوترہ گلاب خان خواجہ جہان زیب اور یاور ملہوترہ سمیت سیاسی، سماجی کاروباری اور مذہبی شخصیات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ حسن شیراز کیانی کی تدفین انکے آبائی گاؤں کنیٹ خلیل جبکہ حیدر عباس کو مقامی قبرستان میں اشکبار آنکھوں آہوں اور سسکیوں کے ساتھ سپرد خاک کیا گیا