کون اور کس عمر میں کینسر کا سب سے زیادہ خطرہ ہوتا ہے،آخر کار امریکی ماہرین نے راز جان لیا

کیلی فورنیا:اگر کسی فرد کو کینسر سامنا ہو تو اس سے مکمل صحتیابی کا امکان تو ہوتا ہے مگر اس صورت میں اگر اس کی تشخیص جلد ہوجائے، جبکہ بیماری کا علاج بہت تکلیف دہ ثابت ہوسکتا ہے۔مگر اب تک طبی ماہرین یہ تعین نہیں کرسکے کہ کس فرد میں کینسر کا خطرہ سب سے زیادہ ہوتا ہے۔مگر اب انکشاف ہوا ہے کہ مخصوص عمر اور تمباکو نوشی کسی بھی قسم کے کینسر کا شکار بنانے والے سب سے اہم عناصر ہیں۔یہ انکشاف امریکہ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں ہوا۔امریکن کینسر سوسائٹی کی تحقیق میں 4 لاکھ 29 ہزار 991 افراد پر ہونے والی 2 تحقیقی رپورٹس کا تجزیہ کیا گیا۔

ان افراد میں ماضی میں کینسر کی تاریخ نہیں تھی اور ان کا جائزہ 5 سال تک لیا گیا، جس کے دوران 15 ہزار سے زیادہ افراد میں کینسر کی مختلف اقسام کی تشخیص ہوئی۔تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ خواتین میں 50 سال یا اس سے زیادہ عمر اور تمباکو نوشی خطرہ بڑھانے والے سب سے اہم عناصر ہیں، جن کے ساتھ زیادہ جسمانی وزن، ذیابیطس ٹائپ 2، خاندان میں کینسر کی تاریخ، بلڈ پریشر اور جسمانی طور پر زیادہ وقت بیٹھ کر گزارنا دیگر اہم عناصر ہیں۔

اسی طرح مردوں میں عمر اور تمباکو نوشی کے ساتھ ساتھ خاندان میں کینسر کی تاریخ، سرخ گوشت کا زیادہ استعمال، جسمانی طور پر زیادہ وقت بیٹھ کر گزارنا اور الکحل کا استعمال کینسر کا خطرہ بڑھانے والے عناصر ہیں۔محققین نے بتایا کہ ہمارے نتائج سے ہمیں عام آبادی میں ایسے گروپس کا تعین کرنے میں مدد ملے گی جن میں کینسر کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے، تاکہ کینسر اسکریننگ اور روک تھام پر زیادہ کام کیا جاسکے۔

تحقیق کے مطابق 50 یا اس سے زائد عمر کے تمام افراد اور تمباکو نوشی کرنے والے یا ماضی میں کرنے والے سب میں اگلے 5 برسوں میں کینسر کا خطرہ 2 فیصد زیادہ ہوتا ہے۔5 برسوں کے بعد کینسر کا خطرہ مردوں میں 29 جبکہ خواتین میں 25 فیصد زیادہ ہوتا ہے۔محققین نے کہا کہ اس وقت جب ہم ایسے ٹیسٹوں کے امکانات پر کام کررہے ہیں جن سے کینسر کی متعدد اقسام کی شناخت ہوسکے، اس کو دیکھتے ہوئے ان افراد کی شناخت کی زیادہ ضرورت ہے جس میں کسی بھی قسم کے کینسر کا خطرہ سب سے زیادہ ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جن گروپس کا تعین کیا گیا ہے وہ کینسر اسکریننگ اور روک تھام کی کوششوں سے اس موذی مرض سے خود کو بچا سکتے ہیں۔اس تحقیق کے نتائج جرنل کینسر میں شائع ہوئے۔