پی ٹی آئی رہنمائوں نے عبوری ضمانتوں کی درخواستیں کیوں واپس لیں،اہم وجوہات سامنے آ گئیں

لاہور: تحریک انصاف کے رہنماؤں نے اپنے خلاف قائم مقدمات میں عبوری ضمانتوں کی درخواستیں واپس لے لیں۔ انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پی ٹی آئی رہنماؤں کے خلاف مختلف دفعات کے تحت درج مقدمات میں عبوری ضمانتوں کی درخواستیں پولیس کی جانب سے بے گناہ قرار دیے جانے کی بنیاد پر واپس لی گئیں۔ عدالت کی جج عبہر گل نے درخواست کی سماعت کی۔ اس موقع پر ملزمان کی طرف سے برہان معظم ملک اور میاں تبسم ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے۔

وکلا نے عدالت سے شفقت محمود، ڈاکٹر یاسمین راشد، حماد اظہر، عندلیب عباس، میاں محمود الرشید، عمیر خان نیازی، جمشید چیمہ، مسرت جمشید چیمہ، اعجاز چودھری، میاں اسلم اقبال، ندیم عباس بارا اور دیگر کی ضمانت کی درخواستیں واپس لینے کی استدعا کی۔دوران سماعت پولیس نے عدالت میں بیان دیا کہ کسی مقدمے میں ملزمان کی گرفتاری درکار نہیں۔ تفتیشی افسر کا کہنا تھا کہ ملزمان کا ان مقدمات میں کوئی کردار نہیں ہے۔ پولیس نے تھانہ گلبرگ ،بھاٹی گیٹ ،تھانہ شفیق آباد اور تھانہ شاہدرہ میں درج مقدمات میں دہشت گردی کی دفعات ختم کیں اور بے گناہ قرار دے دیا۔

برہان معظم ملک ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ پولیس نے تحریک انصاف کے تمام رہنماؤں کو 4 مقدمات میں بے گناہ قرار دیا ہے۔ سیاسی رہنماؤں پر دہشت گردی کی دفعات عائد کرنا آئین اور جمہوریت کی خلاف ورزی تھی۔ دہشت گردی کا قانون دہشت گردوں کے لیے بنایا گیا تھا، سیاسی رہنماؤں کے لیے نہیں۔