* ٹرانس جینڈر ایکٹ کی مکمل حقیقت*

تحریر ۔شبانہ ایاز

زیادہ تر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ٹرانسجینڈر ایکٹ خنثیٰ( خواجہ سراء) کو تحفظ دینے کا قانون ہے ۔۔تو پھر اس کی مخالفت کیوں کی جارہی ہے ۔۔۔؟؟ایسے افراد جو پیدائشی طور پر جنسی نقص کا شکار ہوتے ہیں انہیں خنثیٰ( خواجہ سراء) اور انٹرسیکس کہتے ہیں ۔جیسے بینائی اور سماعت سے محروم اور کسی بھی جسمانی معذوری کے باعث والدین اپنے بچوں کو خاندان سے باہر نہیں نکالتے۔۔ اسی طرح پیدائشی طور پر جنسی نقص کا شکار بچوں کو بھی خاندان سے نہیں نکالنا چاہیے۔ اسلام ایسے افراد کو تیسری جنس کہہ کر معاشرے سے باہر نہیں نکالتا ۔بلکہ انہیں مرد عورت /مذکر مونث کا نام دیتا ہے. ایسے افراد اچھوت نہیں بلکہ وہ بھی فیملی کا حصہ ہوتے ہیں.
اسلام انہیں مرد عورت کے تمام شرعی حقوق دیتا ہے اور ان کی عزت کا پورا خیال رکھتا ہے۔ یہ کم علمی اور جہالت ہے کہ جنسی برتھ ڈیفیکٹ( خنثیٰ) کے باعث ان افراد کو نام نہاد گرووں کے حوالے کردیا جائے جو انہیں روپ بدل کر ناچ گانے،سیکس ورکربننے پر مجبور کریں۔یہ تو سراسر ظلم اور انسانیت کے خلاف سنگین ترین گناہ ہے۔

ھونا تو یہ چاہیے تھا کہ ۔ٹرانس جینڈر ایکٹ میں ان مظلوموں کا خیال کرتے ہوئے انہیں حقیقی تحفظ دیا جاتا اور صدیوں سے رائج اس گندے نظام کو بدلا جاتا۔ اس ایکٹ میں خنثیٰ افراد کو گھروں سے نکال کر گروؤں کے حوالے کرنے پر سزا کا تعین کیا جاتا ۔انہیں والدین، دادا دادی، نانا نانی کی تحویل میں رکھے جانے پر پابند کیا جاتا ۔ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 35 میں خاندان، ماں اور بچے کے تحفظ کو یقینی بنانے کی ضمانت دی گئی ہے ۔خنثی بچے یا فرد کو خاندان سے کاٹ کر ایک ظالم جرائم پیشہ گروو کے حوالے کر دینا نام نہاد انسانی حقوق اور چائلڈ رائٹس کمیشن (CRC) کی خلاف ورزی ہے. اگر اس قانون کا مقصد خنثیٰ یعنی انٹر سیکس افراد کو حقوق دینا تھا تو اس کا نام ٹرانس جینڈر ایکٹ کیوں رکھا گیا ۔۔۔؟؟؟ اس کا نام انٹرسیکس پرسن پروٹیکشن رائٹ ایکٹ 2018Inter sex person protection right act رکھا جاتا تو جو اعتراض پیدا ہوا ہے وہ نہ ہوتا۔

درحقیقت خنثیٰ( مخنث) افراد کی آڑ لے کر ٹرانس جینڈر کے تحفظ کے لیے یہ قانون بنایا گیا ہے۔ ٹرانس جینڈر ایک *امبریلا ٹرم*(Umbrella term) ھے۔ یعنی ایک ایسی چھتری جس کے نیچے ماڈرن نظریہ جنس اور ہم جنس پرستوں کی تمام اقسام اپنا گھناؤنا کام کرتی ہیں۔ یہ ایکٹ یوگیاکارتا پرنسپل 10Yogia karta principles 10 کے ایجنڈے کو پاکستان میں نافذ کرنے کے لیے بنایا گیا ہے جو دنیا بھر میں LgBTQ نظریات یعنی ہم جنس پرستی اور جنسی بے راہ روی کو قانونی حیثیت دینے کے لیے کام کرتا ہے . یہ قانون ایک نئے شیطانی نظریہ جنس پر بنایا گیا ہے۔ جس میں جنس کو اختیاری قرار دیا گیا ہے ۔اس قانون کے تحت کوئی بھی شخص
Self perceived gender ideology ذاتی احساسات کی بنیاد پر اپنی جنس تبدیل کر سکتا ہے۔ جو کہ شرعاً حرام اور قابل سزا جرم ہے ۔

2021 کی وزارت داخلہ کی رپورٹ کے مطابق اس ایکٹ کے تحت 28,723 لوگ اپنی جنس تبدیل کروا چکے ہیں۔اسی قانون کے تابع ٹرانس جینڈر رولز 2020 کے تحت ہر کوئی سرجری یا ہارمونز تھیرپی کروا کر اپنی جنس تبدیل کر سکتا ہے ۔ رولز 2020 میں جس دستاویز کے تحت اجازت دی گئی ہے وہ W PATH standard of care کے مطابق ہے ,جس کا ہر جملہ شریعت سے متصادم ھے۔۔ائیے مذید حقیقت پر سے پردہ اٹھائیں۔اور دیکھیں کہ ٹرانسجینڈر ایکٹ کے اندر کیا چھپا ھوا ھے۔۔۔؟؟؟

ٹرانس جینڈر ایکٹ درحقیقت نئے نظریہ جنس (New Gender Ideology) پر ڈرافٹ کیا گیا ہے جوLgBTQ کو قانونی جواز فراہم کرتا ہے۔ٹرانسجینڈر ایکٹ کی سنگینی کو سمجھنے کے لئے چند اصطلاحات کا سمجھنا بہت ضروری ہے۔نئے نظریہ جنس کے مطابق
Gender اور sexکی تعریف الگ الگ کی جاتی ہے۔اور یہی تقسیم اس باطل نظریے کی بنیاد ہے۔اقوام متحدہ ہم جنس پرستی کو عالمی تحفظ فراہم کرنے والا ادارہ ہے اس کے ذیلی ادارے World Health organization کے مطابق Sex اور Gender
کی الگ الگ خودساختہ تعریفیں بیان کی جاتی ہیں۔

جنس (sex) کا مطلب مردوں اور عورتوں کی مختلف جسمانی خصوصیات ہیں۔ * صنف( Gender) سے مراد عورتوں مردوں. لڑکوں, لڑکیوں کی خصوصیات جو سماجی طور پر تعمیر کی گئی ہیں. اس میں عورت اور مرد ہونے کے ساتھ ساتھ ایک دوسرے کے تعلقات سے منسلک اصول ،رویے اور کردار شامل ہیں۔یہ صنف ہر معاشرے میں مختلف بھی ہوسکتی ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ بدل بھی سکتی ہے۔یہ ہے وہ بنیادی خرابی جس کا اسلامی تعلیمات سے کوئی لینا دینا نہیں بلکہ یہ اللہ کے قانون تخلیق کو بدلنے والی بات ہے۔

نظریہ جنس نے جینڈر (gender) کو جنس (sex)سے مختلف بتانا شروع کر دیا اور اللہ کی تخلیق کردہ جنس کو ظاہر اور باطن میں تقسیم کر کے دونوں میں انسان کو اپنی مرضی سے تبدیلی کی اجازت اور مکمل آزادی دے دی۔اس کے بعد سیکس اور جینڈر کی ان تعریفات کی بنیاد پر مزید گمراہ کن اصطلاحات متعارف کروائیں گئیں۔Sexual Orientation.اس اصطلاح سے مراد کسی فرد کی وہ گہری رومانی ,جذباتی, کشش جسمانی تعلق یا احساس ہے جو وہ کسی دوسرے فرد کے لئے محسوس کرتا ہے۔ یعنی ایک فرد کا جذباتی رجحان سیکس اورینٹیشن( sex orientation) کہلاتا ہے ۔اسے مکمل جنسی آزادی کہتے ہیں. (جبکہ شریعت مرد اور عورت کو نکاح کا پابند کرتی ہے۔)

Gender Identity.یہ وہ جنسی شناخت ہے جو کوئی فرد اپنے اندرونی اور باطنی احساسات اور رجحانات کی بنیاد پر اختیار کرتا ہے۔ یہ اس کی پیدائش۔ جنسی شناخت اور معاشرے کی طرف سے دی گئی شناخت کے مطابق بھی ہوسکتی ہے اور اس کے غیر مطابق بھی ۔ یعنی جنسی شناخت اختیار کرنے کی مکمل آزادی۔۔۔ ۔۔۔اس تعریف سے یہ ثابت کیا جاتا ہے کہ ایک مرد جب چاہے عورت کی شناخت لے لے یا عورت مرد کی شناخت لے لے۔ (شریعت میں ایسی کوئی آزادی موجود نہیں ۔ پیدائشی جنسی شناخت بدلنا قطعی حرام ھے۔)

Gender Expression.
ایک فرد اپنی مرضی سے اپنے لیے جو جنسی شناخت اختیار کرتا ہے وہ چاہے تو اس کا اظہار کرے اور چاہے تو نہ کرے۔ یعنی جب چاہے خود کو عورت ظاہر کرے اور جب چاہے خود کو مرد ظاہر کرے۔۔ (شریعت میں مردوں کا عورتوں کی مشابہت اور عورتوں کا مردوں کی مشابہت حرام ہے۔)کسی بھی قانون میں تعریفات کو بنیادی حیثیت حاصل ہوتی ہے . پاکستان کے ٹرانسجنڈر ایکٹ2018 کی تعریفات میں آرٹیکل 2 کی شق E اور Fمیں جینڈر ایکسپریشن( Gender Expression)اور جینڈر آئیڈنٹٹی (Gender Identity) میں یہی دو تعریفات.. نئے نظریہ جنس اور LgBTQ نظریات کی بنیاد ہے ,جو ہم جنس پرستی کو جواز فراہم کرتی ہیں۔اس قانون میں سیکچوئل اورینٹیشن( sexual Orientation) کو براہ راست تو نہیں لکھا گیا , مگر اس قانون میں اس کو جواز فراہم کیا گیا ہے۔

اس ایکٹ کے حوالے سے یہ دھوکہ دیا جا رہا ہے کہ یہ بل خواجہ سراؤں کی وراثت کے لیے بنایا جارہا ہے. جس کی جسمانی ساخت عورت کی طرح ہے اسے عورت قرار دے دیا جائے اور جو مرد، مرد جیسی جسمانی ساخت رکھتا ہے وہ مرد لکھ دیا جائے۔ اسے وراثت میں حصہ مل جائے ۔ لیکن اس کی تشخیص کے لیے میڈیکل بورڈ کا کہیں بھی ذکر نہیں ہے ۔تینوں صوبائی اسمبلیوں میں اس ایکٹ کو مسترد کرنے کی قراردادیں پیش کی گئی ہیں ۔ اس ایکٹ کو اسلامی نظریاتی کونسل اور بغیر قائمہ کمیٹی کو بھیجے عجلت میں منظور کرلیا گیا تھا۔ پاکستان کے آئین کے آرٹیکلL227اور شریعت ایکٹ 1991 کے مطابق کسی غیر شرعی قانون کا نفاذ پاکستان میں ممکن نہیں۔اس بل کو جید علمائے کرام اور اسلامی نظریاتی کونسل نے اسلام کے خلاف قرار دیا ہے اور اس قانون کو LgBTQ ایجنڈے کی تکمیل کا ذریعہ قرار دیا ہے ۔

خنثیٰ( خواجہ سراء) معاشرے میں بہت تھوڑے ہیں ۔یہ نظرانداز مظلوم طبقہ ہے۔ ان کی آڑ میں اس ایکٹ کے ذریعے ہم جنس پرستی کو فروغ دیا گیا ہے۔مذید کیا نقصانات متوقع ہیں۔۔؟؟؟_ٹرانس جینڈر قانون کے تحت ہم جنس پرستوں کی شادی کا راستہ ہموار کردیا گیا ہے اوراس شادی کو قانونی جواز دیا گیا ہے۔_اس قانون کے تحت ان خواجہ سراؤں کو تحفظ دیا گیا ہے جو کہ اصل میں مرد ہیں،جو کہ ناچ گانے اور جنسی جرائم میں ملوث ہیں۔_اسی قانون کے تحت ہم جنس پرستوں کو معزز شہری بنا دیا گیا ہے.انہیں مجرموں کی فہرست سے نکال کر سرکاری عہدہ دار بنانے کی اجازت دے دی گئی ہے۔_اسی طرح اس قانون کے تحت کوئی مرد شناختی کارڈ میں جنس عورت لکھوا کر خواتین کے تعلیمی اداروں میں پڑھ سکتا ہے اور پڑھا بھی سکتا ہے۔

_اسی طرح کوئی بھی عورت شناختی کارڈ میں جنس مرد لکھوا کر وراثت میں ڈبل حصہ لے سکتی ہے۔ مسجد میں امامت کروا سکتی ہے۔ مردوں کی صف میں ساتھ کھڑے ہو کر نماز پڑھ سکتی ہے۔_یہ قانون پاکدامنی کی حوصلہ شکنی کرتا ہے اور جنسی مجرموں کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔_یہ قانون ہمارے نظام معاشرت, وراثت, نکاح, تعلیم اور تمام اسلامی اقدار پر منفی اثر ڈالتا ہے۔اور یہ آئین پاکستان کے بھی منافی ہے. آئین پاکستان کی شق 227 کے مطابق تمام موجودہ قوانین کو قرآن پاک اور سنت کے احکام کے مطابق بنائے جانے کا حکم ھے ۔_اس ایکٹ کے تحت نادرہ سمیت تمام حکومتی اداروں کو پابند کیا گیا ہے کہ جنس بدلنے والوں کو شناختی کارڈ، پاسپورٹ، ڈرائیونگ لائسنس جاری کریں۔

سوال یہ ہے کہ یہ قانون بنایا کس کس نے ہے۔؟؟

یہ بل 21 اگست 2017 کو سینیٹر روبینہ خالد پپلز پارٹیسینیٹر ثمینہ عابد پی ٹی ائی۔سینیٹر کلثوم پروین مسلم لیگ ن سینیٹر روبینہ عرفان مسلم لیگ ق نے متعارف کرایا اور 2018 میں یہ ایکٹ بنا۔2018 میں حکومت، پاکستان مسلم لیگ ن کی تھی پرائم منسٹر شاہد خاقان عباسی تھے پپلز پارٹی کے۔سینٹرز کریم احمد خواجہ اور روبینہ خالد نے بل پیش کیا۔ ایم کیو ایم کی سینیٹر نسرین جلیل سینیٹ کمیٹی کی چئیر پرسن تھی۔ اور ریاست مدینہ کے دعویدار پی ٹی آئی نے بھی قومی اسمبلی اور سینیٹ میں اسے پاس کرواکر پورے ملک میں نافذ کروایا۔ پھر جب پی ٹی آئی کی حکومت آئی تو اس حکومت نے اس قانون کو کالعدم قرار دینے کے بجائے ان کی رہنما شیریں مزاری نے اپنی سربراہی میں اس قانون کے نفاذ کو اور زیادہ موثر بنا دیا اور ٹرانسجینڈر رولز 2020 بالآخر نافذ کر دیئے۔

۔جماعت اسلامی نے اس ایکٹ کی بھرپور مخالفت کی اور سینیٹر مشتاق احمد خان نے اس میں ترامیم کی کوشش کی ۔پی ٹی آئی کی شیریں مزاری نے ان ترامیم کی مخالفت میں شدید مزاحمت دکھائی۔بہرحال یہ بل متعلقہ کمیٹی کو بھیج دیا گیا ہے،جہاں اس بل پر پہلی میٹنگ 5 ستمبر 2021 کو ھوچکی ہے۔یہ کمیٹی اگلے ماہ اکتوبر 2022 میں یہ ترامیم منظور یا مسترد کرے گی۔ان ترامیم کے مطابق اس ایکٹ میں ٹرانس جینڈر کی تعریف نمبر دو اور تعریف نمبر 3 جس میں مکمل مرد اور مکمل عورت کو ٹرانسجینڈر قرار دیا گیا ہے کے خاتمے کا مطالبہ ہے۔

ٹرانسجینڈر کے تعین کے لیے ذاتی تصور کی ہوئی جنسی شناخت کے بجائے اسے میڈیکل بورڈ سے مشروط کئے جانے اور میڈیکل سرٹیفیکیٹ حاصل کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔۔اس میڈیکل بورڈ میں ڈاکٹر، پروفیسر ،سرجن ، گائناکولوجسٹ اور سائیکالوجسٹ شامل ہوں جو فیصلہ کریں کہ یہ واقعی خنثیٰ(inter sex) ہے یا نہیں۔