ملک کی تغیراتی کیفیت

کچھ تو ہے۔۔۔
محمد صلاح الدین خان
[email protected]

پاکستان میں جہاں ملکی سیاسی ، معاشی حالات تیزی سے تبدیل ہو رہے روز کوئی نہ کوئی چونکا دینے والی خبر نکل رہی جو پوری قوم کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہوئے اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے ملک کے حالت کی تغیراتی کیفیت میں سکون کے لمحات ملنا محال ہوگیا ہے ہر بڑا چھوٹا شخص مشکلات اور پریشانی کا شکار نظر آتا ہے وہ الگ بات ہے کے ان کی پریشانی کی وجوہات الگ الگ ہیں لیکشن یہ بات بھی اظہر من شمس ہے حالات اور پریشانیوں کا تانا بانا کہیں نہ کہیں جاکر ایک دوسرے سے مل جاتا ہے ۔ڈالر338 کا ہونے سے ملک میں مہنگائی کا طوفان آگیا ہے ، ڈالر کچھ کم بھی ہوامگر مہنگی ہونے والی اشیاء کم نہ ہوئیںگیس بجلی کے ریٹ بڑھ گئے ہیں جس سے ہر شخص متاثر ہورہا ہے .

پہلے ملک میں ضمنی انتخابات میں جیت کے لیے ن لیگ ، تحریک انصاف کے سیاسی جلسے شروع ہوئے، پی ٹی آئی کے 15سیٹیں حاصل کرنے کے بعد پنجاب کے وزیر اعلیٰ کی سیٹ کے لیے جوڑ توڑ شروع ہوگیا حمزہ ، شہباز ، پرویز الہی کا معاملہ سپریم کورٹ تک پہنچ گیا جس میںعدالت نے پنجاب کے ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کو کالعدم قرار دیتے ہوئے پی ٹی آئی کے حق میں فیصلہ دیا، 2اگست کوالیکشن کمیشن کی جانب سے پی ٹی آئی ممنوعہ فنڈنگ کیس کا فیصلہ آگیا ، ن لیگ اور تحریک انصاف میں پھر سیاسی بیانات کی وجہ سے سیاسی صورتحال گرم ہوگئی یہاںتک کہ سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف جو لند ن سے کم ہی بیان دیتے تھے نے سیاسی بیان دیا کہ اقامہ پر مجھے کیوں نکالا ، کیا اب فنڈنگ کیس میں عمران خان کے خلاف بھی کارروائی ہوگی یا تمام قوانین اور رولز صرف دیگر سیاسی جماعتوں کے لیے ہیں لاڈلے کے لیے کچھ نہیں؟ ن لیگ، پیپلز پارٹی اور پی ڈی ایم کی جانب سے ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ جانے کی بات کی جارہی ہے.

حکومت کی جانب سے ممنوعہ فنڈنگ کیس کے فیصلے پر ایک سیاسی کمیٹی خورشید شاہ کی سربراہی میں اور آئینی و قانونی معاملات پر غور کے لیے ایک کمیٹی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کی سربراہی میں قائم کی گئی ہے دوسری جانب پی ٹی آئی کی جانب سے الیکشن کمشنر کے خلاف سپریم جودیشل کونسل میں ریفرنس دائر کرنے کا معاملہ بھی چل رہا ہے ، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں 15دن کے بجائے 7کے لیے مقرر کا معاملہ بھی وفاقی کابینہ میں زیر غور ہے ، حکومت اور اپوزیشن کے سیاسی لوگ پریس کانفرنسز کررہے ہیں ایک دوسرے کی سابق دورحکومت میں کارکردگی ، خامیوں کو اجاگر کیا جارہا ہے ، جنرل انتخابات کے لیے رائے عامہ ہموار کرنے کی بھرپور کوشش کی جارہی ہے ، ملک میں ایک جانب محرالحرام کا سوگ اور دوسری جانب ”جشن آزادی کی ”کی گرما گرمی شروع ہوگئی ہے جہاں زندہ قومیں اپنا جشن آزادی جوش و خروش سے مناتی ہیں وہاں ہمیں آزاد کے حصول میں دی جانے والی قربانیوں،مشکلات کو بھی نہیں بھولنا چاہیے تاریخ شاہد ہے وہی قومیں زندہ رہتی اور ترقی کی منازل طے کرتی ہیں جو اپنے اصلاف کو یاد رکھتی اور ان کے نققش قدم پر چلنے کی کوشش کرتی ہیں، آزادی کی رہ میں قربان ہوجانے والوں کو خراج تحسین پیش کرنا ان کے لیے دعا مغفرت کرنا اور اس کو بچوں کے ذریعے جاری رکھنا ہی اصل صدقہ جاریہ ہے ۔

حکمرانوں کی جانب سے عوام اور خصوصا آدمی کے مسائل اور مشکلات کی طرف کوئی خاص توجہ نہیں دی جارہی ایک دن میں دس سے بیس پریس کانفرنسز ہورہی ہیں، عوام ڈالرز مہنگا ہونے،پٹرولیم مصنوعات مہنگی ہونے اور سیلابی علاقوں سے پھل سبزی، ودیگر اجناس نہ آنے پر پریشنان ہیں متوقع طور پر پیدا ہونے والی غذائی قلت پر بات کرنے اور پیشگی اقدات اٹھانے کی طرف توجہ دینے پر کوئی تیار نہیں حکومت ضروری موثر اقدامات کے بجائے ساری توجہ سیاست پر مرکوز کیے ہوئے ہے جبکہ اپوزیشن نے بھی حکومت کو مسائل میں الجھا کررکھ دیا ہے روز نت نئے بیانات اور جوابی بیانات کا سلسلہ شروع ہے ،ملک بھر مزید بارشوں کی بھی پیشنگوئی کی گئی ہے ۔ملک بھر میں اہم ادویات کی کمی کا بحران شدت اختیار کرگیا جس کے باعث محکمہ صحت پنجاب نے فارماسوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن سے مدد کی درخواست کی ہے۔ محکمہ صحت پنجاب کے مطابق اس وقت صوبے میں 53 ضروری ادویات کی قلت ہے، پاکستان میڈیکل ایوسی ایشن ناپید ادویات بنانے کے لیے اثروسورض استعمال کرے۔

اس کے علاوہ پرائم منسٹر انسپکشن ٹیم نے بھی ادویات کی قلت کی انکوائری شروع کرتے ہوئے ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی، پی پی ایم اے اور دیگر حکام کو طلب کر لیا۔ پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ ملک میں نایاب ہونے والی ادویات ملٹی نیشنل کمپنیوں کی ہیں، جس میں تھیلیسیمیا، کینسر اور ٹرانسپلانٹ کے مریضوں کے لیے ملٹی نیشنل کمپنیوں کی ادویات آنا بند ہو گئی ہیں۔ پی پی ایم کا ادویات کی کمی کے حوالے سے کہنا ہے کہ بیرون ملک خام مال مہنگا ہونے اور ڈالر کی قیمت بڑھنے سے ادویات کا بحران بڑھتا جا رہا ہے جبکہ بیرون ملک بننے والی ادویات کی درآمد پر 3 فیصد ٹیکس عائد کرنے سے درآمد کم ہونا شروع ہوگئی۔کامن ویلتھ گیم میں نوح دستگر نے سونے کا تمغہ حاصل کیا جس پر حکومت کی جانب سے 50لاکھ روپے انعام دینے کا اعلان اور پوری قوم کی جانب سے مبارک باد پیش کی گی ہے۔