مشرق وسطیٰ اور عالمی سیاست میں تبد یلیاں

گرد ش پیہم
ڈاکٹر مسرت امین
[email protected]

امن کی طرف بڑھا ہوا ایک چھوٹا سا قدم بھی بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ اقوام متحدہ اور ترکیہ کی ثالثی میں روس اور یوکرین کے مابین گندم برآمد کرنے کے معاہدے کو امن کے قیام کے لئے اگر تاریخی نہیں کہ سکتے تو کم از کم اس معاہدے سے عالمی خوراک کا بحران ختم ہونے کی امید پیدا ہوئی ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے بھی اس معاہدے کو ایک پیکج کا نام دیا ہے۔معاہدہ فی الحال 120 دن کے لئے ہے لیکن اس معاہدے سے اوڈیسا، چرنومورسک اور پِوڈینیی کی بندرگاہیں گندم کی ترسیل کرنے کے لیے استعمال ہو سکیں گی۔ترکی نے ایک مرتبہ پھر اس معاہدے کی ثالثی سے اپنی سیاسی اور سفارتی اہمیت کا لوہا منوایا ہے۔روس،یوکرین جنگ کی وجہ سے تیل اور خوراک کے عالمی بحران اور مشرقی وسطی میں حالیہ ہونے والی سیاسی تبدیلیوں میں ترکی اور ایران کی اہمیت ایک مرتبہ پھر بڑھ چکی ہے۔
امریکی صدر جوبائڈن کے دورہ مشرقی وسطی کے فوری بعد روسی صدر پوٹن اور ترک صدر طیب اردگان کے دورہ ایران نے خطے میں بڑی سیاسی اور سفارتی تبدیلیوں کیطرف اشارہ ہے۔

یوکرین پر حملے کے بعد روس سخت ترین عالمی پابندیوں کی زد میں ہے قطع نظر اس بات کہ روس کیطرف سے یورپ کو گیس کی سپلائی کی بندش ،تیل اور خوراک کی بڑھتی قیمتوں نے امریکہ اور اسکے مغربی اتحادیوں کو بھی پریشان کیا ہے۔لیکن یہ بھی ایک ٹھوس حقیقت ہے کہ روس پر ماضی میں اتنی سخت پابندیاں کبھی نہیں لگیں۔روس اپنی سفارتی تنہائی کو ختم کرنے اور معاشی پابندیوں کا اثر زائل کرنے کے لئے نئے اتحادیوں کی تلاش میں ہے۔دوسری طرف مشرقی وسطی کے دوسرے سب سے اہم کھلاڑی ایران کو بھی اپنے جوہری پروگرام کی وجہ سے ایسی ہی مغربی پابندیوں کا سامنا ہے۔امریکی صدر کے دورہ مشرقی وسطی خصوصا سعودیہ عرب کے دورے کی کامیابی یا ناکامی پر بحث ہوسکتی ہے لیکن اس دورے میں دونوں ممالک کوئی بڑا عسکری یا معاشی معاہدہ کرنے میں ناکام رہے۔دوسری جانب روسی صدر پوٹن کے دورہ ایران میں دونو ں ممالک نے 40 ارب ڈالر مالیت کے معاشی معاہدے کئے اور دونوں ممالک نے عالمی پابندیوں کو زائل کرنے کےلئے اپنا بینکنگ سسٹم لانے پر اتفاق کیا۔یوکرین پر حملے کے بعد مغربی ممالک نے روس کو بھی عالمی بینکنگ نظام سویفٹ سے نکال دیا تھا۔روس کو معاشی پابندیوں کا توڑ کرنے کے لئے نئے معاشی پارٹنرز کی تلاش ہے وہیں ایران کو بھی خطے میں سیکوریٹی ،معاشی ،سیاسی اور سفارتی تعاون کی تلاش ہے،بدلے میں ایران نے یوکرین پر روسی حملے کی حمایت کی۔

دلچسپ بات مشرقی وسطی میں ایران اور سعودیہ عرب روایتی حریف ہیں لیکن یوکرین پر روس کےحملے اور تیل قیمتوں کے معاملے پر دونوں روایتی حریف روس کے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں ۔دونوں روایتی حریف اب اختلافات ختم کرنے کے لئے بات چیت کرنے کو بھی تیار نظر آتے ہیں ۔موجودہ صورتحال میں مغربی ایشیا کا خطہ عالمی سیاست میں بہت اہم بنتا نظر آرہا ہے کیونکہ پوری عالمی سیاست اسی خطے کے گرد گھوم رہی ہے۔خطے میں روس اور سعودیہ عرب بہت اہم اتحادی ہیں اور اب ایران بھی روس کا اتحادی بننے جا رہا ہے۔سعودیہ عرب کے وزیر خارجہ کا روس کے حوالے سے بیان کہ روس تیل پیدا کرنے والی عالمی تنظیم اوپیک کا لازمی جزو ہے اور اوپیک کے تعاون کے بغیر دنیا میں تیل کی بلاتعطل سپلائی ناممکن ہے۔سعودیہ عرب کا یہ بیان امریکہ اور مغربی ممالک کے لئے یقینا بے حد پریشان کن ہوگا ،کیونکہ امریکہ اور مغربی ممالک روس کے خلاف عالمی پابندیوں کے اپنی مرضی کے نتائج نہ ملنے پر جھنجلائے ہوئے نظر آتے ہیں ۔

دوسری جانب خطے کے ایک اور اہم کھلاڑی ترکی جو سعودی صحافی جمال خشوگی کی ہلاکت کے بعد خطے میں سعودیہ کے حریف کے طور پر سامنے آیا وہ بھی سعودی اتحادی روس کے ساتھ کھڑا نظرآرہا ہے۔مشرقی وسطی میں نان عرب ممالک ایران اور ترکی کے خلاف سعودیہ،اسرائیل ،مصر وغیرہ کے مشترکہ عسکری اتحا د کی امکانات بھی اب دم توڑتے نظر آرہے ہیں ۔اس بات سے انکار نہیں کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اسرائیل کے ساتھ اچھے تعلقات کے خواہاں ہیں مگر سفارتی معاملات اور عالمی تبدیلیاں ذاتی خواہشات کے تابع نہیں ہوتیں ۔اس وقت عالمی تبدیلیوں اور حالات کا دارومدار تیل اور خوراک کی بڑھتی قیمتوں پر منحصر ہے ۔امریکہ کے مغربی اتحادی روس سے گیس کی سپلائی کی بندش ،تیل کی بڑھتی قیمتوں اور امریکہ کے تیل پیدا کرنے والے ممالک کی تنظیم پر قیمتوں میں کمی کے لئے پیداوار بڑھانے کے لئے ناکام دباو سے ناراض نظر آتے ہیں ۔امریکہ کو اس وقت دوہرا چیلنج درپیش ہے ایک اپنے مغربی اتحادیوں کے خدشات اور تحفظات کا ازالہ ،دوسری جانب دنیا پر کم ہوتا اثر و رسوخ ۔

اس وقت امریکہ کے اتحادی سوال اٹھا رہے ہیں کہ اگر امریکہ اپنے مغربی اتحادیوں کے تحفظ کو یقینی نہیں بنا سکتا اور مغربی ممالک کے معاشی مسائل کے حل کے لئے مدد نہیں کرسکتا تو امریکہ کے ساتھ عسکری اتحاد میں رہنے کا کیا فائیدہ ؟دوسری جانب یوکرین میں روس کی عسکری کامیابیاں ،امریکہ اور یورپی ممالک کی معاشی پابندیوں کے باوجود روس کا جارحانہ رویہ اور دنیا کا سب سے اہم خطے مشرقی وسطی میں کم ہوتا امریکی اثر و رسوخ آنے والے کچھ مہینوں میں عالمی سیاست میں امریکی کردار کو طے کرے گا.

نوٹ:ڈاکٹر مسرت امین پروفیسر ہیں اور قومی اخبارات میں انٹر نیشنل ایشوز پر لکھتی ہیں