مشرق وسطیٰ اور امریکی اثر و رسوخ

گرد ش پیہم
[email protected]
ڈاکٹر مسرت امین

امریکی صدر جو بائڈن کا سعودیہ عرب کا تین روزہ تاریخی دورے کا اختتام 17 معاہدوں اور بے شمار سوالات پر ہوا۔امریکی صدر کا مشرقی وسطی کا دورہ کتنا کامیاب رہا؟کیا امریکہ مشرقی وسطی میں اثرورسوخ کھو رہا ہے؟کیا خطے کے دیگر ممالک اسرائیل اور ایران کو خطے کی بڑی طاقت تسلیم کرنے کو تیار ہیں؟سعودی عرب کیسے عالمی سطع پر ایک اہم پلئیر بن کر ابھر رہا ہے؟ان تمام سوالات کے جواب اتنے آسان نہیں تو صدر جو بائڈن کے دورے کے بعد سمجھنا اتنے مشکل بھی نہیں رہے۔

جوبائڈن پہلے امریکی صدر ہیں جو اسرائیل دارلحکومت تل ابیب سے براہ راست جدہ پہنچے۔صدارت کا منصب سنبھالنے کے بعد امریکی صدر کا مشرق وسطیٰ کا پہلا دورہ ہے اور سعودی عرب پہنچنے سے قبل انہوں نے اسرائیل کا دورہ کیا۔ دورہ اسرائیل میں صدر جو بائڈن کی اسرائیلی ہم منصب اور فلسطین اتھارٹی کے سربراہ سے بھی ملاقات ہوئی۔فلسطینی قیادت سے ملاقات کے دوران امریکی صدر نے مشرقی اسرائیل فلسطین تنازعے کے حل کے لئے دو ریاستی فارمولے پر زور دیا اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے لئے امریکہ حمایت کا یہ کہتے ہوئے یقین دلایا کہ دو ریاستی حل کا امریکی عزم اب بھی قائم ہے یہ تبدیل نہیں ہوا۔امریکی صدر کے مقبوضہ فلسطین اور اسرائیل کے دورے میں کسی بڑے سفارتی بریک تھرو کی امید تو نہیں تھی اور خود صدر جو بائیڈن نے بھی واضح کردیا کہ فی الحال امن فلسطین اسرائیل امن مذاکرات کے لئے یہ موزوں وقت نہیں۔ فلسطین کے لئے امریکی امداد کی بحالی اور اسرائیل کی طرف سے زبردستی ضم کئے گئے مشرقی بیت المقدس کے علاقے میں فلسطینی اسپتال کے دورے نے امریکی حکومت کیطرف سے فلسطینیوں کی اشک شوئی کی کوشش کہا جا سکتا ہے۔

تاہم امریکی صدر جو بائیڈن نے اس بات کی وضاحت کی کہ وہ بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کیے جانے کے ڈونلڈ ٹرمپ کے متنازع فیصلے کو واپس لینے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔اسرائیلی صدر کے ساتھ ملاقات میں جو بائڈن نے ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنے کے لئے مشترکہ کوششوں پر اتفاق کیا لیکن اسرائیلی میڈیا کو دئیے گئے ایک انٹرویو میں صدر جو بائڈن نے واضح کیا کہ ایران کے خلاف طاقت کا استعمال آخری آپشن ہوگا۔
صدر جو بائڈن پہلے امریکی رہنما ہیں جو تل ابیب سے براہ راست جدہ پہنچے۔جدہ ائیرپورٹ پر گورنر اور امریکہ میں تعینات سعودی سفیر کے استقبال سے ہی واضح ہوگیا تھا کہ سعودی عرب امریکی صدر کے دورے کو خاص اہمیت دینے کو تیار نہیں۔کیونکہ دوسری طرف امیر کویت اور اردن کے بادشاہ کا سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے بنفس نفیس خود استقبال کیا۔سفارتکاری میں خاص طور پر ایسے تاریخی دوروں میں چھوٹی سے چھوٹی جزئیات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاتا۔سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے امریکی صدر سے ہاتھ ملانے سے گریز نے بھی واضح کیا کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان امریکہ کے ساتھ ماضی کی تلخیاں نظر انداز کرنے کو تیار نہیں۔

سعودی فرمانروا شاہ سلمان کی موجودگی میں امریکی صدر نے ولی عہد محمد بن سلمان کے سامنے سعودی صحافی جمال خشوگی کے قتل کا معاملہ اٹھایا تو محمد بن سلمان نے امریکی صدر کے سامنے فلسطینی صحافی شیریں ابوعاقلہ کے اسرائیلی فوج کے ہاتھوں ہلاکت کا معاملہ اٹھایا۔

امریکی صدر کے تیل کی قیمتوں میں کمی کے لئے پیداوار بڑھانے کے مطالبے پر ولی عہد محمد بن سلمان نے 12 لاکھ بیرل سے پیداوار 13 لاکھ بیرل تک بڑھانے کا وعدہ تو کیا لیکن یہ بھی واضح کردیا کہ سلطنت اس سے زیادہ پیداوار بڑھانے کی متحمل نہیں ہوسکتی۔اس اہم دورے میں سعودی اسرائیل تعلقات میں جس بڑے بریک تھرو کی توقعات تھیں وہ تو نہ ہوسکا لیکن پہلی مرتبہ سعودیہ عرب نے اسرائیل کے لئے اپنی فضائی حدود کو کھول دیا۔بدلے میں اسرائیل اور امریکہ نے تیران اور صنافیر کے جزائر پر سعودی ملکیت کو تسلیم کرلیا اور امریکی صدر نے یقین دلایا کہ بہت جلد امن فوج سے ان جزیروں کا قبضہ لیکر سعودی عرب کو دے دیا جائے گا۔

جدہ میں خلیج تعاون کونسل کے اجلاس میں دیگر عرب رہنماؤں سے ملاقات میں امریکی صدر نے یقین دلایا کہ امریکہ مشرقی وسطی کو چھوڑ کر کہیں نہیں جارہا۔ہم مشرقی وسطی کو ایران،روس اور چین کے لئے تنہا نہیں چھوڑیں گے۔
امریکی صدر کے عرب رہنماؤں کےلئے یقین دہانیاں اپنی جگہ اس مرتبہ مشرقی وسطی میں امریکہ کے لئے صورتحال اتنی آسان نہیں۔خطے میں طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے اور امریکی پابندیوں کے خلاف اتحادی ممالک کو مشترک کرنے کے لئے روسی صدر پوٹن اور ترک صدر اردگان ایران کا دورہ کررہے ہیں۔اگر خلیج تعاون کونسل کے عرب رہنماؤں کی طرز پر ایران،روس اور ترکی کوئی مشترکہ حکمت عملی بنانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو یہ خطے میں امریکی مفادات کے لئے ایک بڑا دھچکا ثابت ہوگا۔

امریکی صدر کے دورہ مشرقی وسطیٰ کی کامیابی یا ناکامی کا فیصلہ تو تاریخ کرے گی لیکن سعودی قیادت کے امریکی مطالبات کے جواب میں ٹھوس یقین دہانیوں سے گریز اور کسی بڑے بریک تھرو کی عدم موجودگی خطے پر کم ہوتے ہوئے امریکی اثرورسوخ کیطرف اشارہ کرتی ہے۔لگتا ہے دنیا ایک مرتبہ پھر کثیر قطبی نظام کیطرف بڑھ رہی ہے۔