فرج میں فریز کی گئی خوراک کے کتنے نقصانات سامنے آ رہے ہیں،ماہرین نے انتہائی خطر ناک نتائج سے آگاہ کر دیا

لندن:انسانی جسم میں معدہ ایک اہم ترین عضو ہے، ہم جو کھاتے ہیں وہ غذا کی نالی کے ذریعے معدے تک پہنچتا ہے اور پھر وہیں ایک منظّم نظام کے تحت غذا سے نشاستہ، نمکیات، معدنیات، وٹامنز، پروٹینز اور دیگر مفید اجزاء الگ ہوتے ہیں جبکہ باقی ناقابلِ ہضم اجزاء جسم سے خارج ہو جاتے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ آج کل کی تیز رفتار زندگی میں انسان نے اپنی صحت کو بہت نظر انداز کر رکھا ہے جس کی سب بڑی مثال کم وقت میں جَلد تیار ہو جانے والے فروزن فوڈ کا بے تحاشہ استعمال ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ہم کھانے پینے میں بے احتیاطی، فاسٹ اور فروزن فوڈز، کولڈ ڈرنکس وغیرہ کے زائد استعمال اور سہل پسندی کے نتیجے میں اس جسم کے قدرتی نظام میں گڑبڑ پیدا کر رہے ہیں جس کے بدلے میں ہمیں پیچیدہ بیماریوں کا سامنا ہے۔ماہرین کے مطابق اصل میں معدہ ایک تھیلی کی مانند ہے، معدے کا بنیادی کام غذا گرائنڈ کر کے ہضم کرنا ہے، ہم جو بھی کھاتے ہیں وہ اس تھیلی میں جمع ہو جاتا ہے اور پھر ایک نظام کے تحت غذا کو اس قابل کرتا ہے کہ وہ جسم کو توانائی فراہم کر سکے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ دِل، دماغ سمیت متعدّد بیماریوں کا سِرا معدے ہی سے جا ملتا ہے۔

مثال کے طور پر بیش تر بسیار خور (زیادہ کھانے کے شوقین) افراد عارضۂ قلب میں مبتلا ہو جاتے ہیں، نفسیاتی عوارض میں مبتلا بیش تر مریض ’ایِٹنگ ڈس آرڈر‘ کا شکار ہو سکتے ہیں، اسی طرح عام صحت مند افراد بھی جب خوش ہوں تو اُن کا دِل چاہتا ہے کہ روٹین سے ہٹ کر کچھ کھائیں اور اگر مزاج برہم ہو تو پھر کچھ کھانے پینے کو جی نہیں چاہتا۔معدے کی اپنی بیماریاں بھی ہیں جن میں معدے کا السر، انفیکشن، درد، ورم، تیزابیت، سینے میں جلن، پیٹ پُھولنا اور سرطان وغیرہ شامل ہیں۔

ماہرین کا بتانا ہے کہ بڑوں میں السر، تیزابیت، جلن اور سوزش کی تکالیف عام ہیں، بعض افراد کو خصوصاً موسمِ سرما میں غذا کی نالی اور معدے میں الرجی کی شکایت ہوجاتی ہے جس کی علامات میں اُلٹی اور اسہال شامل ہیں۔دوسری جانب بڑی عُمر کے لوگوں میں معدے کے سرطان کی شرح زیادہ ہے، پان، گٹکا اور تمباکو کا استعمال کرنے والوں میں بھی معدے اور منہ کا سرطان عام ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ماضی میں بچوں میں معدے کے زیادہ مسائل نہیں دیکھے جاتے تھے لیکن اب صرف معدے ہی کے نہیں بلکہ چھوٹی آنت کے مختلف انفیکشنز اور ’سیلیئک‘ یعنی گندم سے الرجی جیسے امراض بھی عام ہو رہے ہیں۔

معدے کے امراض کی تشخیص کیسے ممکن ہے؟
ماہرین کے مطابق معدے کے امراض کی تشخیص کے لیے سب سے پہلے بیس لائن ٹیسٹ مثلا5 پاخانہ، خون، پائیلوری سٹول اینٹی جن ٹیسٹس وغیرہ کیے جاتے ہیں۔ اگر بیس لائن ٹیسٹ اور ادویہ کے استعمال کے باوجود افاقہ نہ ہو، مسلسل وزن اور خون میں کمی واقع ہو رہی ہو، عُمر 50 سال سے زائد ہو، تو پھر اینڈو اسکوپی کی جاتی ہے۔

اس کے علاوہ لبلبے، جگر یا پتّے کے بھی ٹیسٹ کیے جا سکتے ہیں۔

بچّوں میں عام طور پر اسٹول ٹیسٹ ہی تجویز کیا جاتا ہے لیکن اگر کسی خطرناک بیماری کا خطرہ ہو، پیٹ کا درد ٹھیک نہ ہو رہا ہو، اسہال میں افاقہ نہ ہو یا عُمر کی مناسبت سےقد نہ بڑھ رہا ہو تو اینڈو اسکوپی کی جاتی ہے۔

معدے کا سرطان (کینسر) اور اس کا علاج
طبی ماہرین کے مطابق معدے کے سرطان کی بنیادی وجوہ میں مرچ مسالے والی غذائیں، فروزن فوڈ، مرغن غزائیں، تمباکو نوشی، پان، گٹکے، الکوحل کا استعمال، السر اور ایچ پائیلوری جرثومہ وغیرہ شامل ہیں۔ فاسٹ فوڈز کے استعمال سے فیٹی لیور اور موٹاپے کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے خاص طور پر بچّوں میں زائد وزن اُنہیں ذیابطیس کے مرض میں مبتلا کر رہا ہے جبکہ ’کارڈیک ڈیزیز‘ (دل کے امراض) بھی اِسی وجہ سے بڑھ رہے ہیں۔

اِسی طرح فروزن فوڈز کا استعمال بھی صحت کے لیے ٹھیک نہیں کہ تحقیق سے یہ ثابت ہوچُکا ہے کہ فروزن فوڈز معدے کے سرطان کی وجہ بن رہے ہیں۔آج کل اگر بچّوں کے لنچ باکسز چیک کیے جائیں تو ان میں فروزن فوڈز ہی پایا جاتا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ہم ماؤں سے درخواست کرتے ہیں کہ خدارا اپنے بچّوں میں تازہ پھل، جوسز اور صحت بخش اشیاء کے استعمال کے رجحان کو فروغ دیں تاکہ وہ صحت مند زندگی بسر کر سکیں۔

امراضِ معدہ سے تحفّظ کیلئے احتیاطی تدابیر
ماہرین کی جانب سے تجویز کیا جاتا ہے کہ معدے سمیت دیگر امراض سے بچاؤ کے لیے سادہ کھانا کھائیں، ہوٹلنگ، فاسٹ فوڈز، فروزن فوڈز اور کولڈ ڈرنکس سے جس قدر ہو سکے اجتناب کریں۔صاف ستھری ،صاف پانی کے ساتھ خصوصاً معیاری تیل میں پکی ہوئی غذاؤں کا استعمال کریں، متحرک طرزِ زندگی اپنائیں، ورزش اور چہل قدمی کو روزانہ کی روٹین کا لازمی حصّہ بنا لیں۔