سیاستدان ہوش کے ناخن لیں

گردو پیش
محمد عارف قریشی

لیجئے مسلم لیگ ن بھی اقتدار سے چمٹے رہنے کی روش پر چل پڑی ۔ اُس نے بھی ریاستی اداروں پر تنقید کے تیر برسانے شروع کر دیئے۔ اپنے خلاف فیصلہ آنے پر عدلیہ کو نشانے پر رکھ لیا۔ کیا فرق رہ گیا تحریک انصاف اور ن لیگ میں۔ یوں لگتا ہے جیسے اس حمام میں سب بے لباس ہیں۔ اپنے حق میں فیصلہ آئے تو خوش خلاف آئے تو ناراض۔ گویا میٹھا میٹھا ہپ کڑوا کڑوا تھو۔ یہ کہاں کا انصاف ہے جس کی ابتدا تحریک انصاف کی جانب سے ہوئی اور اب سب کی زبانیں قینچی کی طرح چل رہی ہیں۔ پاکستان کی پچھتر سالہ تاریخ میں بہت سے سیاسی بحران آئے مگر ایسی صورتحال کبھی پیدا نہیں ہوئی کہ کوئی سیاسی جماعت اقتدار سے محرومی پر اتنی غضبناک ہوجائے کہ وہ وطن عزیز کی سا لمیت پر سوال اٹھا دے۔ پی ٹی آئی کو آئینی اور قانونی طریقے سے اقتدار سے الگ کیا گیا لیکن اُس نے نہ صرف عوامی نمائندوں کا یہ فیصلہ ماننے سے انکار کر دیا بلکہ اس کے قائد عمران خان نے کہا کہ اگر انہیں واپس نہ لایا گیا تو یہ ملک سری لنکا بن جائے گا۔ اسی طرح ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی کے کیس میں عدالت نے پی ڈی ایم کی فل بنچ بنانے کی درخواست رد کردی تو مریم نواز نے کہا کہ یکطرفہ فیصلوں کے بارے یہ توقع نہ رکھیں کہ ہم ان کے سامنے سر جھکا لیں گے۔ اس کے ساتھ ہی حکومتی اتحاد نے بقیہ عدالتی کاروائی کا بائیکاٹ کر دیاہے۔ دریں اثناء تازہ ترین اطلاعات کے مطابق پی ڈی ایم نے حمزہ شہباز کو پنجاب کی وزارت اعلیٰ سے ہٹائے جانے کے سپریم کورٹ کے فیصلے کو مسترد کر دیا جبکہ بڑی سرعت کے ساتھ عدالتی فیصلے پر عمل کرتے ہوئے چوہدری پرویز الہٰی سے وزیر اعلیٰ پنجاب کے عہدے کا حلف لے لیا گیا ہے۔ اتنی بھی کیا جلدی تھی ۔

جہاں تک پی ڈی ایم کی موجودہ حکومت کا تعلق ہے اوّل تو اُس کا عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کا فیصلہ ہی غلط تھا۔ چلیے مستقبل کے کچھ امکانی خدشات کے پیش نظر انہوں نے یہ قدم اٹھا لیا تو اس کے بعد فوراً انہیں الیکشن کا اعلان کردینا چاہیے تھا۔ سال ڈیڑھ کی حکمرانی کے’’ لالچ ‘‘ میں انہوں نے اپنا جو نقصان کیا ہے اس کا خمیازہ وہ پتہ نہیں کب تک بھگتیں گے۔ خصوصاً ن لیگ کی سیاسی ساکھ کو جو دھچکا لگا ہے تین مرتبہ اس ملک میں بر سر اقتدار رہنے والی جماعت کو تین ماہ کے اقتدار کی جو بھاری قیمت ادا کرنا پڑی ہے۔ اس کا اندازہ ہی نہیں لگایا جاسکتا۔ اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے ن لیگ کے رہنما میاں جاوید لطیف کہتے ہیں ’’ہمیں اقتدار دے کر ہمارے ہاتھ باندھ دیئے گئے‘‘ ۔ تو بھائی کسی حکیم ڈاکٹر نے کہا تھا کہ کانٹوں کے اس بستر پر محوِ استراحت رہو۔ چھوڑ دیتے۔

اور اب آخر میں معروف قانون دان چوہدری اعتزاز احسن سے ایک درخواست کہ وہ موجودہ سیاسی صورتحال بارے اپنی ماہرانہ رائے دیتے وقت یہ خیال ضرور رکھا کریں کہ وہ پیپلز پارٹی کے باقاعدہ رکن ہیں اور پیپلز پارٹی نہ صرف پی ڈی ایم بلکہ حکومت میں بھی ن لیگ کی اتحادی ہے۔ کہیںان کا کوئی تبصرہ ان کی جماعت کے خلاف تو نہیں جارہا۔ گزشتہ روز ایک ٹی وی چینل پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا ’’عمران خان کا تو پتہ نہیں البتہ نواز شریف اسٹیبلشمنٹ کے لاڈلے ضرور رہے ہیں‘‘۔ چہ خوب۔ دنیا جانتی ہے کہ 2018ء میں عمران خان کس کی حمایت سے اقتدار میں آئے تھے ۔اور اگلے چار سال ان کی حکمرانی کس کی مرہونِ منت رہی۔ نہیں پتا تو جناب اعتزاز احسن کو ،گویا ؎ جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے

چوہدری صاحب آج کل حالات بہت خراب ہیں۔ پارٹی لائن کے خلاف موقف اختیار کرنے والے کو ’’ڈی سیٹ ‘‘کر دیا جاتا ہے۔ ویسے اگر آپ کو عمران خان اتنا ہی پیارا ہے تو بابر اعوان کی طرح پیپلز پارٹی چھوڑ کر تحریک انصاف جوائن کر لیں اور بلا خوف خطر عمران خان کی وکالت کریں۔