سعودی عرب محمد بن سلمان کی رہنمائی میں!!

گرد ش پیہم
ڈاکٹر مسرت امین
[email protected]

کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان مستقبل قریب میں اتنی اہمیت اختیار کرجائیں گے کہ عالمی معاشی بحران کے inخاتمے کی کنجی ولی عہد کے فیصلوں سے جڑی ہوگی۔2017 میں سعودی بادشاہ سلمان بن عبدالعزیز نے اپنے سگے بھتیجے محمد بن نائف کو ولی عہد کے منصب سے ہٹا کر اپنے سب سے چھوٹے بیٹے محمد بن سلمان کو ولی عہد نامزد کرکے پوری دنیا کو حیران کردیا کیونکہ شاہ عبدالعزیز کے بعد یہ پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ باپ کے بعد بیٹے کو ولی عہد نامزد کیا جائے۔کیونکہ شاہ عبدالعزیز کے بنائے ہوئے اصولوں کے مطابق جانشینی باپ سے بیٹوں کو نہیں بڑے بھائی سے چھوٹے بھائی کو منتقل ہوتی تھی۔شاید ہی کوئی سعودی شہزادہ عالمی سطح پر اتنی تیزی سے ابھرا ہو جس طرح محمد بن سلمان کا عروج ہوا ہے۔ اور شاہ فیصل کے بعد شاید ہی سعودی خاندان کے کسی فرد کے متعلق دنیا میں اتنا تجسس پایا جاتا ہو جتنا ولی عہد محمد بن سلمان کے متعلق پایا جاتا ہے۔ ہر کوئی جاننا چاہتا ہے کہ وہ اتنی تیزی سے قدامت پسند سعودی پالیسیوں میں تبدیلی کیوں لانا چاہتے ہیں۔

ولی عہد محمد بن سلمان دنیابھر میں سعودیہ میں متعارف کروائی گئیں اپنی لبرل سماجی ،ثقافتی اور معاشی اصلاحات کی وجہ سے جانے جاتے ہیں ۔ ایم بی ایس کی عرفیت سے مشہور محمد بن سلمان کی اصلاحات کو سمجھنے سے پہلے انکی شخصیت کو سمجھنا ضروری ہے۔ایم بی ایس اپنے والد یعنی شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی تیسری اہلیہ کے 6 بیٹوں میں سے سب سے بڑے بیٹے ہیں۔ولی عہد محمد بن سلمان کی والدہ کا تعلق سعودی عرب کے روایتی بدو قبیلے سے تھا۔محمد بن سلمان کے دیگر تمام بھائیوں کو شاہی خاندان کی روایات کے مطابق تعلیم کے لئے بیرون ممالک بھیجا گیا جبکہ محمد بن سلمان نے اپنی تعلیم ریاض میں ہی حاصل کی ۔عموما امریکہ،برطانیہ اور مغربی ممالک کی مشہور جامعات سے پڑھنے والوں کو ہی لبرل اور روشن خیال سمجھا جاتا ہے لیکن محمد بن سلمان نے ریاض کی یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کرکے یہ ثابت کردیا کہ لیڈر شپ کی خوبیاں،ویزن اور ترقی پسند سوچ کا انحصار بڑی جامعات کی ڈگریوں پر نہیں بلکہ شخصی خوبیوں پر ہوتا ہے۔اپنے پیش رو محمد بن نائف کے برعکس محمد بن سلمان کو انکے والد نے بغیر تجربے کے کم عمری میں ہی وزیردفاع کے طاقتور منصب پر فائز کردیا تھا ۔ اس سے پہلے سعودی شاہی خاندا ن میں کسی اتنے بڑے منصب پر براہ راست تقرری تاریخ میں کبھی نہیں ہوئی ۔ولی عہد محمد بن سلمان کو ہی یمن جنگ کا اصل منصوبہ ساز کہا جاتا ہے ۔

ایم بی ایس نے ولی عہد بننے کے بعد اس وقت دنیا کی توجہ حاصل کی جب 2017 میں سرمایہ کاری کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے دنیا کے سامنے عہد کیا کہ عہد کیا تھا کہ وہ سعودی عرب کو، جو ایک عرصے سے سخت گیر مذہبی نظریات کے حوالے سے جانا جاتا رہا، ’ماڈریٹ اسلامی ریاست‘ بنائیں گے۔ہم اپنے اگلے 30 برس تباہ کن نظریے کے ساتھ نہیں گزار سکتے، ہمیں ان نظریات کو آج اور ابھی ختم کرنا ہوگا۔محمد بن سلمان کے ولی عہد بننے کے بعد سعودی سماج میں پہلی مرتبہ مملکت میں سینما کھولنے کی اجازت دی گئی ،خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت ،بغیر محرم سفر کی اجازت،تفریحی سہولیات کی فراہمی سمیت سماجی آزادیوں کا دائرہ کار بڑھایا گیا۔

سخت گیر سلفی نظریات کی حامل اسلامی ریاست میں سماجی سطع پر اتنی بڑی تبدیلوں کو جہا ں مملکت کی 25 سال سے کم 50 فیصد نوجوان آبادی نے سراہا وہیں سخت گیر نظریات رکھنے والی نکتہ چینی کا جواب اینٹی کرپشن مہم کے نام پر بڑے کریک ڈاون کے زریعے شہزادے محمد بن سلمان نے شاہی خاندان کے بااثر ترین افراد اور سابق وزرا کو گرفتار کرکے تمام مخالف آوازوں کو دبا دیا گیا۔
معاشی میدان میں اصلاحات کے لئے محمد بن سلمان نے اپنے ویژن 2030 کو دنیا کے سامنے رکھا تو ناقدین کی نظر میں یہ دیوانے کا خواب تھا ۔کیونکہ مختصر عرصے میں تیل کی دولت پر انحصار کرنے والی مملکت کی معیشت کو تجارت،سیاحت اور ٹیکنالوجی پر شفٹ کرنا ممکن نہیں۔سیاحت کے فروغ کے لئے سخت گیر مذہبی معاشرے میں اصلاحات کا ہدف پورا کرنے کے بعد معاشی اصلاحات کے لئے سعودی آئل کمپنی آرامکو کے حصص کی فروخت کا عمل بھی شروع کیا جا چکا ہے۔ویژن 2030 کا سب سے اہم اور دلچسپ منصوبہ 130 کلومیٹر لمبائی پر محیط جدید ترین ٹورسٹ سٹی نیوم کا قیام شائید دبئی کے قیام کے بعد اپنی طرز کا منفرد منصوبہ ہے۔

قدرت ہم قوم کو ترقی اور آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کرتی ہے لیکن بحران میں اپنے لئے مواقع پیدا کرنا ہی قیادت کا اصل امتحان ہوتا ہے۔کورونا وبا کے بعد عالمی معاشی بحران اور روس یوکرین جنگ کے بعد سعودیہ عرب کا روس کیطرف جھکاؤ،تیل کی پیداوار پر مضبوط کنٹرول اور قطر کے ساتھ سفارتی روابط کی بحالی نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کو تین سالہ سفارتی تنہائی کے بعد صف اول کے عالمی رہنماؤں کی صف میں لاکھڑا کیا۔یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ عالمی سیاست کی بساط پر مشرقی وسطی کی مرکزی اہمیت کے پیچھے ولی عہد محمد بن سلمان کے بروقت سفارتی فیصلوں اور ویژنری سوچ نے اہم کردار ادا کیا ہے۔آج عالمی معاشی بحران ہو یا توانائی کی بڑھتی قیمتیں تمام معاشی مسائل کے حل کی کنجی روسی صدر پوٹن کے بعد محمد بن سلمان کے ہاتھ میں ہے اور ایم بی ایس فی الحال مملکت کی عالمی سیاست میں ملنی والی مرکزی حیثیت کو کھونا
نہیں چاہتے۔

ڈاکٹر مسرت امین پروفیسر ہیں اور قومی اخبارات میں انٹر نیشنل ایشیوز پر لکھتی ہیں