اولاد کے حقوق

تحریر: مولانا اخترعلی

اس وقت ہمارے معاشرے میں ایسی برائیاں جنم لے چکی ہیں جس کی وجہ سے ہم آئے روز پستی کی طرف جارہے ہیں اور اس سے بھی بڑھ کر بدقسمتی یہ ہے کہ ہم ان برائیوں کو برائی ہی نہیں سمجھتے۔ افسوس تو یہ کہ ہم بہت سے ایسے رسم ورواج اور روایات کو عین شریعت کے مطابق مان رہے ہیں اور اسکو اپنے طور سے درست بھی مان رہے ہیں۔ جس کی سب سے بڑی وجہ دین کے علم سے دوری اور اپنے فیصلوں اور طرززندگی میں علما دین سے مشورے نہ لینے ہیں۔ اور ہمارا یہی طرز عمل ہمیں اندھیروں کی طرف دھکیل رہا ہے۔ معاشرہ اس وقت جن خامیوں کا شکار ہیں بلکہ اگر تھوڑے سخت الفاظ استعمال کئے جائیں تو یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ جہالت اور غفلت کے جس دور سے ہم گز رہے ہیں۔ اس میں والدین کے حقوق کے حوالے سے بہت ساری کنفیوژن معاشرے میں پائی جاتی ہیں۔ اور اس حوالے سے عموما تصویر کا ایک رخ دیکھا جاتا ہے۔ اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ اسلام نے والدین کے حقوق پر بہت زیادہ زور دیا ہے مگر اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ والدین صرف اپنی دنیاوی خواہشات کو پورا کرنے کیلئے اولاد پر زور ڈالے۔ اور اپنی تمام تر توانیاں صرف اپنی اولاد کی دنیاوی ضرورتوں پر خرچ کردیں۔ اگر اللہ تعالی نے والدین کو اتنا بڑا رتبہ اور حقوق دیئے ہیں تو اس کے ساتھ ان پر کچھ ایسی ذمہ داریاں بھی عائد کی ہیں جن کو اگر پورا کیا جائے تو مثالی معاشرہ قائم ہونے میں زیادہ دیر نہیں لگے گی۔ ان میں سب سے پہلی اولاد کی دینی تربیت ہے۔ دنیاوی تربیت کے ساتھ ساتھ دینی تربیت پر بھی توجہ دینی چاہئے۔

ان حقوق میں پہلا حق یہ ہے کہ جب بچہ بولنے لگے تو اس کو سب سے پہلا کلمہ سکھایاجائے۔جب سات سال کا ہوجائے تو نماز سکھائی جائے اور اس کی تاکید بھی کریں۔دس سال کا ہوجانے کے بعد اس کو نماز نہ پڑھنے پر ڈانٹ دیا جائے ۔ جس کا مقصد یہ ہونا چاہئے کہ نماز کی اہمیت اس کے دل میں اتر جائے۔ اس کے ساتھ اس کو قرآن سکھانے کا بھی اہتمام کیا جائے بہتر یہی ہے کہ حافظ قرآن بنادیا جائے جو دنیا وآخرت دونوں کی کامیابی ہے نہ صرف بچہ کیلئے بلکہ خود والدین کیلئے بھی۔ بنیاد اگر دینی تعلیم سے دی جائے تو دنیاوی تربیت میں آسانی ہوگی۔ اور بچہ کے بگڑنے کے امکانات کم ہوجاتے ہیں۔ اب اس کی دنیاوی تربیت کا بھی پورا پورا اہتمام کیا جائے تانکہ یہ مستقبل میں اپنے پاوں پر کھڑا ہونے کے قابل ہوجائے۔ مگر یہاں یہ بات ضروری ہے کہ بلوغت سے پہلے بچہ سے ہر گز دنیاوی کام نہ لیا جائے۔ آج والدین اور اولاد کے درمیان جو خلا پایا جاتا ہے اور اکثر والدین اپنی اولاد سے پریشان دکھائی دیتے ہیں تو اس کی بنیادی وجہ اولاد میں دینی تربیت کی کمی ہے۔ اگر دنیاوی تربیت کے ساتھ اور خصوصا بلوغت سے پہلے بچے کی دینی تربیت کا اہتمام کیا جائے تو اولاد والدین کی آنکھوں کی ٹھنڈک بن سکتے ہیں۔